اہم خبریںگلگت بلتستان

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کی ملاقات

اسلام آباد (پ ر) گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کی نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے ملاقات ، مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔

گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے نگران وزیراعظم کو گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس میں خطاب کی دعوت بھی دی ۔

گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے نگران وزیراعظم سے ملاقات میں گلگت بلتستان کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2023-24 حکومت گلگت بلتستان کو اے ڈی پی کےلئے بیس ارب مختص کیے ہیں جو کہ علاقے کی پائیدار ترقی اور ترجیحی منصوبوں کو حل کرنے کےلئے کم ہیں، جبکہ اے ڈی پی کا نصف سے زائد پاور سیکٹر میں استعمال ہوتا ہے لہذا گلگت بلتستان کی اے ڈی پی فنڈز جو بڑھا کر کم از کم پچیس ارب تک کیا جائے۔

گورنر گلگت بلتستان نے نگران وزیر اعظم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ PSDP کے منصوبوں کی لاگت 117 ارب روپے سے زیادہ ہے جبکہ رواں مالی سال کےلئے صرف 7.95 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ انتہائی کم ہے۔ رواں سال پی ایس ڈی پی کے تین اہم پراجیکٹس کی تکمیل کےلئے مزید 4.5 روپے کا فنڈز درکار ہے۔

انہوں نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے گزارش کی کہ پی ایس ڈی پی کی مختص رقم کو کم از کم 19 ارب تک بڑھایا جائے تاکہ حکومت گلگت بلتستان کو صوبے میں بجلی، سینیٹری، سیوریج، صحت اور تعلیم کے منصوبوں سمیت ترجیحی منصوبوں کو مکمل کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔
گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے گلگت بلتستان میں گندم کی شدید قلت کو دور کرنے کےلئے سبسڈی کی مد میں مزید 3 ارب روپے کا اضافی رقم جاری کرنے کی بھی درخواست کی ۔

گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ گلگت بلتستان سے ہر سال لوگوں کی بڑی تعداد اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کےلئے عراق، ایران ،شام اور سعودی عرب کا سفر کرتی ہے۔ اس تناظر میں CAA اور PIA کو سکردو سے عراق، ایران ، شام اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست فلائٹ روٹس قائم کرنے پر زور دینے کی گزارش کی۔ یہ اقدام مذہبی سیاحت کی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بلاشبہ مذہبی عقیدت مندوں اور عامرہ و زائرین کی جانب سے بہت سراہا جائے گا۔

گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے گلگت بلتستان کے دو ممتاز جامعات کو درپیش مالی چیلنجوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قراقرم اور بلتستان یونیورسٹی مالی مشکلات سے دوچار ہیں جسکی وجہ سے طلباء کی فیسوں میں اضافے اور عملے کی تنخواہیں رکی ہوئی ہے۔

دونوں اداروں میں درپیش مشکلات کا براہ راست اثر تعلیمی نظام پر پڑ رہا ہے اس طرح طلباء اور عملے کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔ نگران وزیراعظم سے درخواست کیا کہ دونوں جامعات کو مالی معاونت فراہم کی جائیں تاکہ اندرونی تعلیمی ماحول کو مستحکم کرنے کے علاوہ ترقی کےلئے سازگار ماحول کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہوسکے۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کو یقین دلایا کہ وہ جلد گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور دونوں جامعات کو مالی معاونت فراہم کرے گی ، انہوں نے مزید بتایا کہ پی ایس ڈی پی فنڈز میں اضافے کےلئے نگران حکومت بھرپور کردار ادا کرے گی۔

سکردو سے بین الاقوامی پروازیں شروع ہونا انتہائی خوش آئند بات ہے۔ حکومت کی ترجیحات ہونگے کہ وہ مذہبی سیاحت کے فروغ کےلئے بھی اقدامات اٹھائے ،اس تناظر میں پی آئی اے حکام سے بات چیت کرکے ایران ،عراق، شام اور سعودی عرب کےلیے بھی پروازیں شروع کردی جائے گی اور پی ایس ڈی پی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے فنڈز مہیا کرنے کےلئے بھی اقدامات کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button