اہم خبریں

آئینی ترمیم کوئی نئی بات نہیں یہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا حصہ ہے،اعظم نزیر تارڑ

آئینی ڈھانھچے میں رہتے ہوئے قانون سازی کرے۔ڈرافٹ تو تب سامنے لایا جائے جب بل ایوان میں پیش کیا جائے

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ آئینی ڈھانھچے میں رہتے ہوئے قانون سازی کرے۔ڈرافٹ تو تب سامنے لایا جائے جب بل ایوان میں پیش کیا جائے، کابینہ میں معاملہ آتا ہے اُس کے بعد کابینہ کی خصوصی کمیٹی اس کو جانچتی ہے۔

کابینہ اور خصوصی کمیٹی کے بعد پارلیمنٹ میں بل آتا ہے، ابھی یہ بل مسودہ بن کر کابینہ نہیں گیا تو اس کو ایوان میں کیسا لایا جا سکتا۔ہم نے اتحادیوں سے بل پر مشاورت کی تھی، اپوزیشن کا کام حکومتی بل پر تنقید کر کے اس میں سے چیزیں نکلوانا ہے لیکن جب ہمارا کام پورا ہو گا تو ہی ہم آپ تک مسودہ پہنچائیں گے۔

آئینی ترمیم کوئی نئی بات نہیں یہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا حصہ ہے۔آئینی عدالت کی تجویز پیش کی جسے فوری طور پر چیف جسٹس پاکستان کی مدت ملازمت سے جوڑ دیا گیا۔

آئینی عدالت میں ایک چیف جسٹس اور 7 سے 8 ججز کی تعیناتی کی بات سامنے آئی ہے، اس آئینی عدالت میں تمام اکائیوں کی نمائندگی ہو گی۔ہم ایک قانون لا رہے ہیں جس کے مطابق سال میں مقدمے کا فیصلہ نہ کرنے والے ججز کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button