
"مسئلہ گندم” کا متبادل بیانیہ
تحریر: ڈاکٹر سکندر علی زرین
اس دور میں گندم ایسا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ گلگت بلتستان کے نوجوان اپنی سکل بڑھائیں۔ اعلی تعلیم تو لے رہے ہیں۔ تعلیم لیکن اس طرح لیں کہ اپنی ڈگریوں کا دفاع کر سکیں۔ انگلش کو فوکس کریں۔ سافٹ ایئر سیکھیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں کود جائیں۔
اپنا یوٹیوب چینل بنا کے اچھا کانٹنٹ ڈالیں، اس کے لئے ٹیکنیکل ہو جائیں اور زبان پہ گرفت لے لیں۔ جو ایجوکیشن نہ حاصل کر سکتے ہیں وہ کوئی ہنر سیکھ لیں۔ ٹیلرنگ، پینٹنگ، ویلڈنگ، ڈرائونگ، اسی بلتستان میں بیٹھ کے آپ اچھا کما سکتے ہیں۔ یا مڈل ایسٹ نکل جائیں، زیادہ ہمت دکھائیں تو یورپ امریکہ بھی کھلے ہیں۔
ایک گھر میں 6 بندے ہوں تو گندم کی بوری ڈیڑھ مہینے چل جائے گی۔ آج یہ بوری 5 ہزار کی ہے تو چلیں سبسڈی ختم ہونے پر 15 ہزار۔ گویا ڈیڑھ مہینے میں آپ کو آٹھ دس ہزار اپنا بجٹ اور بڑھانا ہے۔ کیا یہ اتنا بڑھا ایشو ہے؟ ہاں ان کے لئے ہیں جو رعایتی ریٹ کی گندم کھا کھا کے بڑے ہو گئے ہیں۔
لھذا میں صرف یوتھ سے مخاطب ہوں۔ آپ یادگار پہ نہ جائیں۔ یہ گندمی احتجاج نان پروڈکٹیو سرگرمی ہے جو ہر سال سردیوں میں لگتی ہے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے دیکھ رہا ہوں کہ ٹھٹھرتی سردی میں میلے کوٹ پہن کے چہروں سے زندگی کی رمق جاتی ہوئی، ہمارے لوگ گندم گندم کرتے ہوے جلوس نکال رہے ہیں؟
ان سب کا آوٹ کم کیا ہے؟ اوپر بتایا ڈیڑھ مہینے کی 8 ہزار بچت۔ یعنی گندم پر سبسڈی سو فیصد ختم بھی کی جائے تو آپ کو مہینے کے 5 ہزار اضافی دینے پڑیں گے۔ اس کے لئے آئے روز اتنا غلغلہ؟ ہاں بڑے بابوں کو کرنے دیں کہ ان کو سردیوں کی شامیں گزارنی ہیں۔
کچھ مولوی حضرات کو اپنی قبولیت برقرار رکھنی ہے۔ اور اس سے بڑا ستم کیا ہے کہ کچھ برسوں سے گندم سبسڈی نے تاجروں کو عوام کے خیر خواہ و رہنما بنا دیا ہوا ہے؟ کبھی غور کیا ہے یونیورسٹی گریجویٹس؟
ہنزہ کے نوجوانوں نے کبھی گندم سبسڈی کو لے کے احتجاج کیا ہے؟ لھذا بلتستان کے نوجوان مولیوں، تاجروں کی مقبولیت کے لیے ایندھن نہ بنیں۔
یقین کریں ان کی رینج ایک لیفٹننٹ کرنل ہوتا ہے، وہاں رابطے میں رہتے ہیں۔ حلقے کے سیاست دان کی بھی اتنی اوقات نہیں ہے کہ آپ کو خوشحال کر سکیں۔
سو اپنا کاروبار کریں، کال سینٹر کھولیں، چائے بھلے کے ڈھابے لگائیں، ریئل اسٹیٹ کی طرف جائیں، اپنی آمدن بڑھائیں، زمانہ شناس بنیں۔ لعنت ماریں رعایتی ریٹ پر۔

